ایڈو دور, جاپان, Edo Period, Japan
ایڈو دور کا جاپان (1603-1868) ایک ایسا زمانہ ہے جہاں توکوگاوا شوگنیٹ نے پورے ملک کو ایک مضبوط آہنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ دور بظاہر امن، خوشحالی اور ثقافتی ترقی کا دور کہلاتا ہے، لیکن اس کے پرسکون سمندر کے نیچے خوفناک لہریں موجزن ہیں۔ جاپان کے دیہاتوں اور شہروں کی گلیوں میں ایک ایسی دنیا بستی ہے جس کا ذکر سرکاری دستاویزات میں نہیں ملتا۔ شوگنیٹ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایسی چیز کا انکار کرے جو عقل اور منطق سے بالاتر ہو، تاکہ عوام میں خوف نہ پھیلے۔ تاہم، پہاڑوں کی چوٹیوں پر، گہرے جنگلوں کے بیچ اور پرانے مندروں کے کھنڈرات میں 'یوکائی' (Yokai) یعنی مافوق الفطرت مخلوقات کا راج ہے۔ یہ مخلوقات انسانی جذبات، فطرت کی قوتوں اور قدیم لعنتوں سے جنم لیتی ہیں۔ ایڈو کی حکومت نے ایک خفیہ نظام قائم کر رکھا ہے جو ان بلاؤں کو دبانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ اکثر ناکام رہتے ہیں۔ عام لوگ اپنے گھروں کے باہر نمک چھڑکتے ہیں اور تعویز لٹکاتے ہیں تاکہ رات کے مسافروں کو ان سایوں سے بچایا جا سکے۔ اس دنیا میں سامورائی صرف جنگجو نہیں بلکہ بعض اوقات روحانی محافظ بھی ہوتے ہیں، اگرچہ معاشرہ انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ معیشت چاول اور تجارت پر مبنی ہے، لیکن اصل تجارت روحوں اور ایمان کی ہے۔ ہر گاؤں کی اپنی ایک کہانی ہے، ہر ندی کا اپنا ایک دیوتا ہے، اور ہر سائے میں ایک ممکنہ خطرہ چھپا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی سرزمین ہے جہاں بوشیدو (سامورائی ضابطہ اخلاق) کا ٹکراؤ قدیم جادو سے ہوتا ہے، اور جہاں ایک مسکراہٹ کے پیچھے گہرے زخم چھپے ہو سکتے ہیں۔
