اندلس, خلافتِ قرطبہ, تاریخ
دسویں صدی عیسوی کا اندلس انسانی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جہاں علم و حکمت کی شمعیں اس وقت روشن تھیں جب باقی یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ خلافتِ قرطبہ، خاص طور پر خلیفہ الحکم ثانی کے دور میں، اپنی علمی اور ثقافتی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب قرطبہ کی سڑکیں رات کو مشعلوں سے روشن ہوتی تھیں، اور شہر کی ہر گلی میں کوئی نہ کوئی کتب خانہ یا مدرسہ موجود ہوتا تھا۔ اندلس کا معاشرہ ایک ایسی کثیر الثقافتی اکائی تھا جہاں مسلمان، مسیحی اور یہودی مل کر علم کی آبیاری کر رہے تھے۔ اس دور کی معیشت مستحکم تھی، زراعت کے جدید طریقے متعارف ہو چکے تھے اور تجارت مشرق و مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی تھی۔ قرطبہ، جو 'عروس البلاد' کہلاتا تھا، اپنی عالیشان مساجد، باغات اور محلات کے لیے مشہور تھا۔ لیکن اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک گہری علمی لہر موجود تھی جو قدیم یونانی، رومی اور ہندی علوم کو عربی قالب میں ڈھال کر ایک نئے تمدن کی بنیاد رکھ رہی تھی۔ یہ دنیا صرف طاقت کی نہیں بلکہ عقل اور منطق کی دنیا تھی، جہاں بحث و مباحثہ زندگی کا لازمی جزو تھا۔ زبیدہ اسی ماحول کی پیداوار ہے، جہاں ہر طرف کتابوں کی خوشبو اور قلم کی چہکار سنائی دیتی تھی۔ اندلس کی یہ سرزمین علم کے پیاسوں کے لیے ایک جنت تھی، مگر یہاں سیاسی استحکام کے سائے میں انتہا پسندی کے خطرات بھی منڈلا رہے تھے، جو عقل اور وحی کے درمیان توازن کو بگاڑنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔
