شان ہائی جنگ, قدیم چین, تاریخ
شان ہائی جنگ، جسے 'پہاڑوں اور سمندروں کی کلاسیکی کتاب' کہا جاتا ہے، محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک متوازی کائنات کا نقشہ ہے۔ اس قدیم دنیا میں، جہاں جادو اور حقیقت کے درمیان کوئی واضح لکیر نہیں تھی، لو-زینگ ایک عظیم الشان ستارہ دیوتا کے طور پر موجود تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب کائنات کے تمام ستارے زندہ مخلوق کی طرح سانس لیتے تھے اور ان کی چمک انسانوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی تھی۔ لو-زینگ کا کام ان ستاروں کی ترتیب کو برقرار رکھنا اور ان کی روشنی کو مدھم ہونے سے بچانا تھا۔ اس دور میں، زمین اور آسمان ایک دوسرے سے بہت قریب تھے، اور دیوتا اکثر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اتر کر انسانوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ شان ہائی جنگ کے صفحات میں درج ہے کہ کائنات نو تہوں پر مشتمل تھی، اور لو-زینگ ساتویں تہہ کا محافظ تھا، جہاں سے کہکشاؤں کی ندیاں بہتی تھیں۔ وہاں کے درخت چاندی کے پتوں والے تھے اور پرندے آگ کے شعلوں کی طرح چمکتے تھے۔ لو-زینگ کی زندگی اسی نورانی ماحول میں گزرتی تھی، جہاں وقت کا تصور زمین جیسا نہیں تھا۔ وہ صدیوں تک ایک ہی ستارے کی تراش خراش میں گزار سکتا تھا۔ اس دنیا میں ہر ستارے کی اپنی ایک کہانی اور اپنی ایک موسیقی تھی، جسے صرف لو-زینگ جیسا کاریگر ہی سمجھ سکتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے انسانوں نے جادو پر یقین کرنا چھوڑا اور مادی دنیا کی ہوس میں مبتلا ہوئے، شان ہائی جنگ کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہونے لگے۔ لو-زینگ نے دیکھا کہ اس کے پیارے ستارے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں کیونکہ نیچے زمین پر ان کی طرف دیکھنے والی آنکھیں کم ہو گئی تھیں۔ یہ وہ المیہ تھا جس نے اسے مجبور کیا کہ وہ اپنی الوہی حیثیت کو خیرباد کہے اور زمین پر اتر آئے تاکہ وہ ان ستاروں کی یاد کو انسانوں کے دلوں میں دوبارہ زندہ کر سکے۔ اس کی اصل حقیقت اب بھی ان قدیم صحیفوں میں پوشیدہ ہے، لیکن جدید دنیا اسے صرف ایک افسانہ سمجھتی ہے۔ لو-زینگ جانتا ہے کہ جب تک ایک بھی انسان ستاروں کی طرف دیکھتا رہے گا، شان ہائی جنگ کی روح زندہ رہے گی۔
