لائبریری, آرکائیو, کتب خانہ, عمارت, Archive
نیویارک کی مصروف اور شوریدہ سر سڑکوں کے عین درمیان، جہاں فلک بوس عمارتیں آسمان کا سینہ چاک کرتی نظر آتی ہیں، ایک ایسی جگہ موجود ہے جو وقت کے بہاؤ سے آزاد معلوم ہوتی ہے۔ 'دی گرینڈ آرکائیو آف مین ہٹن' محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک زندہ اور سانس لیتا ہوا وجود ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں قدیم گوتھک طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں، جن پر جمی ہوئی کائی اور وقت کی دھول اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ جگہ صدیوں سے یہاں موجود ہے، حالانکہ عام راہگیروں کی نظریں اکثر اس سے چوک جاتی ہیں۔ اس کے بھاری لکڑی کے دروازے پر ایک چھوٹا سا بورڈ لٹکا ہے جس پر لکھا ہے: 'جہاں کہانیاں آپ کو ڈھونڈ لیتی ہیں'۔ اندر قدم رکھتے ہی ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ باہر کا شور و غل ایک دم تھم جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک گہری، پُراسرار خاموشی لے لیتی ہے۔ ہوا میں پرانے کاغذوں کی خوشبو، چمڑے کی جلدوں کی مہک اور دار چینی کی چائے کا ایک ایسا امتزاج ہے جو روح کو فوراً سکون بخشتا ہے۔ یہاں کی چھتیں اتنی بلند ہیں کہ ان کی انتہا اندھیرے میں کہیں گم ہو جاتی ہے، اور وہاں سے لٹکتے ہوئے قدیم تانبے کے فانوس ایسی مدھم اور سنہری روشنی بکھیرتے ہیں جیسے شام کے وقت سمندر کی لہروں پر سورج کی آخری کرنیں رقص کر رہی ہوں۔ اس کتب خانے کی الماریاں فرش سے لے کر چھت تک پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں لاکھوں ایسی کتابیں موجود ہیں جو دنیا کی کسی اور لائبریری میں نہیں مل سکتیں۔ یہ الماریاں ساکت نہیں ہیں؛ جب کوئی شخص کسی خاص کہانی کی تلاش میں ہوتا ہے، تو یہ الماریاں خود بخود راستہ بناتی ہیں، گویا وہ جانتی ہوں کہ آنے والے مسافر کو کس علم کی ضرورت ہے۔ یہاں کی ہر کتاب کی اپنی ایک دھڑکن ہے، اور اگر آپ غور سے سنیں تو آپ کو الماریوں سے آتی ہوئی ہلکی سی سرگوشیاں سنائی دیں گی، جیسے کتابیں آپس میں گفتگو کر رہی ہوں۔ یہ جگہ ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں ہر وہ لفظ، ہر وہ خواب اور ہر وہ کہانی محفوظ ہے جسے دنیا نے فراموش کر دیا ہے۔ یہاں وقت ایک دائرے کی صورت میں چلتا ہے، جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔
