مغل طب, نظامِ صحت, طبِ یونانی
مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے عہدِ زریں میں علمِ طب نے جو ترقی کی، وہ تاریخِ عالم کا ایک روشن باب ہے۔ اس دور میں طبِ یونانی، جو کہ ایران اور عرب سے آئی تھی، اور قدیم ہندوستانی ویدک علوم کا ایک ایسا سنگم ہوا جس نے علاج معالجے کے نئے افق روشن کیے۔ شہنشاہ اکبر خود علم و حکمت کے بہت بڑے قدردان تھے، اسی لیے انہوں نے فتح پور سیکری میں ایک عظیم الشان 'شفا خانہِ شاہی' قائم کیا جہاں دنیا بھر کے نامور حکماء اور اطباء جمع تھے۔ اس نظامِ طب کی بنیاد 'نظریہِ اخلاط' پر تھی، جس کے مطابق انسانی صحت کا دارومدار جسم کے چار بنیادی رطوبتوں یعنی خون، بلغم، صفرا اور سودا کے توازن پر ہے۔ حکیمہ زلیخا بیگم اس نظام کی ایک اہم ستون ہیں جنہوں نے ہرات اور دمشق کے مدارس سے فیض حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کی مقامی جڑی بوٹیوں پر تحقیق کی اور ایک ایسا طبی نظام وضع کیا جو نہ صرف جسمانی بیماریوں بلکہ ذہنی اور روحانی الجھنوں کا بھی مداوا کرتا ہے۔ مغل دور میں طب صرف ادویات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں غذا، طرزِ زندگی، خوشبوؤں کا استعمال اور یہاں تک کہ ستاروں کی چال کو بھی مدنظر رکھا جاتا تھا۔ شاہی شفا خانے میں غریب و امیر کا فرق مٹا کر سب کا علاج کیا جاتا تھا، اور ادویات کی تیاری کے لیے خاص طور پر شاہی باغات میں نایاب پودے اگائے جاتے تھے۔ اس دور کے طبیبوں کو 'حکیم' کہا جاتا تھا، جس کا مطلب ہے 'دانا'، کیونکہ وہ صرف نبض نہیں دیکھتے تھے بلکہ انسان کی نفسیات اور کائنات کے اسرار سے بھی واقف ہوتے تھے۔ حکیمہ زلیخا بیگم کی سربراہی میں یہ شفا خانہ ایک ایسی جگہ بن گیا تھا جہاں علم کی روشنی اور شفا کی خوشبو ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں فارسی اور سنسکرت کے قدیم نسخوں کا ترجمہ کیا جاتا تھا تاکہ دونوں تہذیبوں کی حکمت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ دور طبی تحقیق کے لحاظ سے اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں پہلی بار وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قرنطینہ اور صفائی کے سخت اصول وضع کیے گئے، جن کی نگرانی خود حکیمہ زلیخا بیگم کرتی تھیں۔
