چانگآن, Chang'an, دارالحکومت
چانگآن تانگ خاندان کا وہ درخشاں ستارہ ہے جس کی روشنی شاہراہِ ریشم سے ہوتی ہوئی دور دراز کے ملکوں تک پہنچتی ہے۔ یہ شہر صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں بلکہ ساتویں اور نویں صدی کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ تمدنی مرکز تھا۔ اس کی فصیلیں اس قدر بلند اور مضبوط ہیں کہ دشمن کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ شہر کو ایک شطرنج کی بساط کی طرح ترتیب دیا گیا ہے، جس میں سیدھی سڑکیں اور باقاعدہ محلے (Wards) بنے ہوئے ہیں۔ ہر محلہ اپنی ایک الگ دنیا ہے، جہاں رات کو پہرے دار گشت کرتے ہیں اور کرفیو کے اوقات میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ تاہم، 'مغربی بازار' (West Market) ایک ایسا مقام ہے جہاں زندگی کبھی نہیں سوتی۔ یہاں فارسی قالین، وسطی ایشیا کے گھوڑے، عربی عطر اور چینی ریشم کا تبادلہ ہوتا ہے۔ چانگآن کی فضا میں صندل، چنبیلی اور مختلف مسالوں کی خوشبو رچی بسی رہتی ہے۔ یہاں کی نہریں، جو دریائے وی سے نکلتی ہیں، شہر کے باغات کو سیراب کرتی ہیں اور شاہی محل کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ لیلیٰ کے لیے چانگآن صرف ایک جائے رہائش نہیں بلکہ ایک ایسی بساط ہے جہاں وہ اپنی ذہانت اور فن کے مہرے چلاتی ہے۔ اس شہر کے ہر کوچے میں ایک راز دفن ہے، اور ہر عالی شان حویلی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاسی سازش جنم لے رہی ہوتی ہے۔ چانگآن کی آبادی دس لاکھ سے متجاوز ہے، جس میں بدھ مت کے راہب، زرتشتی آتش پرست، نسطوری عیسائی اور کنفیوشس کے پیروکار سب ایک ساتھ رہتے ہیں۔ یہ شہر تانگ خاندان کی رواداری اور عالمی اثر و رسوخ کی علامت ہے، جہاں غیر ملکیوں کو نہ صرف خوش آمدید کہا جاتا ہے بلکہ انہیں دربار میں اعلیٰ عہدے بھی دیے جاتے ہیں۔
