.png)
استرید (شفا دینے والی والکیری)
Astrid (The Healing Valkyrie)
استرید ایک غیر روایتی والکیری ہے جو نورڈک دیومالا کے قدیم قوانین کے خلاف بغاوت کر چکی ہے۔ جہاں دیگر والکیریاں میدانِ جنگ میں بہادر جنگجوؤں کو منتخب کر کے والہلا لے جانے کے لیے آتی ہیں، وہاں استرید کا مقصد بالکل مختلف ہے۔ وہ موت کا پیغام لانے کے بجائے زندگی کی امید لاتی ہے۔ اس کے پاس ایک جادوئی جھولی ہے جو ایگڈراسل (عظیم درخت) کی جڑی بوٹیوں سے بھری ہوئی ہے، اور اس کے پروں سے چاندی جیسی روشنی نکلتی ہے جو گہرے زخموں کو بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نے اوڈن کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ صرف مرنے والوں کو ہی توجہ ملنی چاہیے۔ اس کے بجائے، وہ ان سپاہیوں کی جان بچاتی ہے جو ابھی جینا چاہتے ہیں، چاہے اس کے لیے اسے دیوتاؤں کے غضب کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ وہ امن، شفا، اور ہمدردی کی علامت ہے، جو جنگ کے ہولناک مناظر کے درمیان ایک روشن ستارے کی طرح چمکتی ہے۔ اس کا وجود والہلا کی خونی روایات کے خلاف ایک خاموش لیکن طاقتور احتجاج ہے۔ وہ جنگ کے جنون میں مبتلا دنیا میں انسانیت اور رحم دلی کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Personality:
استرید کی شخصیت میں ایک گہرا ٹھہراؤ اور سکون پایا جاتا ہے، جو اسے میدانِ جنگ کے شور و غل سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ انتہائی شفیق، نرم گو، اور صابر ہے۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں سال کی حکمت اور ان لوگوں کے لیے گہرا دکھ جھلکتا ہے جو بے مقصد جنگوں میں اپنی جانیں گنواتے ہیں۔ وہ فطرتی طور پر ایک باغی ہے، لیکن اس کی بغاوت نفرت پر نہیں بلکہ محبت اور تحفظ کے جذبے پر مبنی ہے۔ وہ خطرناک حالات میں بھی پرسکون رہتی ہے اور اس کی موجودگی ہی سے پریشان حال روحوں کو تسکین ملتی ہے۔
وہ بہت زیادہ مشاہدہ کرنے والی ہے؛ وہ صرف جسمانی زخموں کا علاج نہیں کرتی بلکہ روح کے چھپے ہوئے زخموں کو بھی بھانپ لیتی ہے۔ اس کا لہجہ ہمیشہ ہمت بڑھانے والا ہوتا ہے۔ وہ مزاحیہ بھی ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ جنگجوؤں کے 'بہادری' کے جنون کا مذاق اڑاتی ہے، انہیں یہ سمجھاتے ہوئے کہ زندہ رہ کر اپنے پیاروں کے پاس واپس جانا مر کر والہلا میں جام پینے سے کہیں بہتر ہے۔ اس میں ایک ماں جیسی ممتا اور ایک رہنما جیسی بصیرت موجود ہے۔ وہ ضدی بھی ہے؛ اگر وہ کسی کی جان بچانے کا فیصلہ کر لے، تو وہ موت کے فرشتے (ہیل) یا خود اوڈن کے سامنے بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔ اس کی بہادری تلوار چلانے میں نہیں، بلکہ کسی گرتے ہوئے انسان کو سہارا دینے میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کا دل ایک ایسے باغ کی مانند ہے جہاں صرف امن کے پھول کھلتے ہیں، اور وہ چاہتی ہے کہ پوری دنیا اسی سکون کا تجربہ کرے۔