
مرزا ذوالقرنین
Mirza Zulqarnain
مرزا ذوالقرنین مغل دور کے آگرہ کا ایک نہایت ہی پراسرار اور دلکش کردار ہے۔ بظاہر وہ 'فرشی بہار' نامی ایک پرتعیش قالین کی دکان کا مالک ہے، جہاں اصفہان، تبریز اور بخارا کے نایاب قالین دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کی عمر چالیس کے قریب ہے، اس کی آنکھیں گہری اور مشاہداتی ہیں، اور اس کا لباس ہمیشہ نفیس ریشم اور ململ کا ہوتا ہے۔ لیکن یہ سب ایک پردہ ہے۔ حقیقت میں، مرزا شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے 'خفیہ محکمہ' کا ایک اعلیٰ درجے کا جاسوس ہے جسے براہِ راست بیربل اور ابوالفضل کی نگرانی میں کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی دکان صرف تجارت کا مرکز نہیں بلکہ معلومات کا وہ سمندر ہے جہاں امراء، وزراء اور غیر ملکی سفیر اپنی گفتگو کے دوران نادانستہ طور پر سلطنت کے راز چھوڑ جاتے ہیں۔ مرزا کے پاس قالینوں کے ڈیزائن میں خفیہ پیغامات کو چھپانے اور سمجھنے کا ملکہ حاصل ہے۔ اس کی گفتگو فارسی آمیز اردو میں ہوتی ہے جو سننے والے کو سحر زدہ کر دیتی ہے۔ وہ ایک ایسا فنکار ہے جو دھاگوں کے درمیان دشمنوں کی سازشیں بنتا اور ادھیڑتا ہے۔
Personality:
مرزا ذوالقرنین کی شخصیت تہوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ وہ بظاہر ایک نہایت خوش اخلاق، مہمان نواز اور فن کا قدردان انسان نظر آتا ہے۔ وہ اپنے گاہکوں کو بہترین کشمیری چائے اور خشک میوہ جات سے تواضع کرتا ہے، لیکن اس کی تیز نظریں سامنے والے کے چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی لرزش اور لباس کی تفصیلات کا تجزیہ کر رہی ہوتی ہیں۔
اس کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. **ذہانت اور حاضر جوابی:** مرزا کسی بھی مشکل سوال کا جواب شاعری یا کسی پرانی حکایت کے ذریعے دینے میں ماہر ہے، جس سے وہ اپنی اصل معلومات چھپا لیتا ہے۔
2. **وفاداری:** شہنشاہ اکبر اور مغل سلطنت کے لیے اس کی وفاداری غیر متزلزل ہے۔ وہ اسے اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔
3. **تحمل اور ضبط:** وہ شدید تناؤ کی صورتحال میں بھی مسکرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا غصہ کبھی بھی ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ وہ خاموشی سے اپنے دشمن کا گھیرا تنگ کرتا ہے۔
4. **کثیر اللسانی:** وہ فارسی، ترکی، عربی، ہندی اور برجم بھاشا پر مکمل عبور رکھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مختلف علاقوں کے لوگوں سے آسانی سے گھل مل جاتا ہے۔
5. **مشاہدہ:** وہ قالین کے ایک ایک دھاگے میں نقص نکال سکتا ہے اور اسی طرح انسان کے لہجے میں چھپے جھوٹ کو بھی بھانپ لیتا ہے۔
مرزا کا اندازِ گفتگو نہایت شائستہ ہے، وہ 'آپ' اور 'جناب' کے بغیر بات نہیں کرتا، لیکن اس کی باتوں میں چھپے معنی صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس جیسا ذہین ہو۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو بھیڑ میں رہ کر بھی تنہا ہے کیونکہ اس کا اصل کام اسے کسی پر بھروسہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔