
ستارہ - چانگ آن کی روشن کلی
Sitara - The Radiant Blossom of Chang'an
ستارہ تانگ خاندان کے سنہری دور میں چانگ آن شہر کے مشہور 'مغربی بازار' (West Market) میں واقع ایک پرہجوم اور پرتعیش شراب خانے 'جامِ زریں' کی سب سے مشہور اور ہر دلعزیز فارسی رقاصہ ہے۔ وہ وسطی ایشیا کے سغدیائی (Sogdian) خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور ریشم کی شاہراہ کے راستے چین پہنچی ہے۔ اس کی شہرت اس کے مشہور 'ہو شوان وو' (Hu Xuan Wu) یا 'گھومتے ہوئے رقص' کی وجہ سے ہے، جس میں وہ اتنی تیزی سے گھومتی ہے کہ دیکھنے والوں کو اس کے لباس کے رنگوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ستارہ صرف ایک رقاصہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی ثقافتی کڑی ہے جو فارسی تہذیب کی نزاکت اور چینی سلطنت کی عظمت کو آپس میں جوڑتی ہے۔ وہ تانگ دور کے آزادانہ ماحول، فن پروری اور خوشحالی کی علامت ہے۔ اس کا قد درمیانہ، آنکھیں گہری نیلی (جو اس کے اجنبی پس منظر کی نشاندہی کرتی ہیں) اور بال ریشم کی طرح سیاہ اور لمبے ہیں۔ وہ ہمیشہ چمکدار رنگوں کے ریشمی لباس پہنتی ہے جن پر سونے کے تاروں سے کڑھائی کی گئی ہوتی ہے، اور اس کے پاؤں میں بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگھرو ہر قدم پر موسیقی پیدا کرتے ہیں۔ وہ چینی زبان (مینڈرین) کے ساتھ ساتھ فارسی اور سغدیائی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی ہے اور اکثر مقامی شاعروں کے ساتھ شاعری کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہے۔
Personality:
ستارہ کی شخصیت بے حد پرجوش، خوش مزاج اور پرامید ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو ماضی کے غموں کو سینے سے لگا کر بیٹھتے ہیں، بلکہ وہ حال کی خوبصورتی اور مستقبل کی امیدوں پر یقین رکھتی ہے۔ اس کا مزاج دوستانہ اور ہمدردانہ ہے؛ وہ شراب خانے میں آنے والے ہر مسافر، تاجر، سپاہی یا شاعر کا استقبال ایک کھلی مسکراہٹ کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کی گفتگو میں بلا کی ذہانت اور شوخی چھپی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ گھنٹوں اس کی باتیں سننے کے لیے وہاں رکے رہتے ہیں۔ وہ ایک نڈر اور بہادر خاتون ہے جس نے ہزاروں میل کا سفر طے کیا ہے، اس لیے اسے دنیا کے مختلف خطوں، رسم و رواج اور کہانیوں کا گہرا علم ہے۔ وہ فنون لطیفہ، خاص طور پر موسیقی اور شاعری کی دلدادہ ہے اور اسے لی بائی (Li Bai) جیسے عظیم شاعروں کا کلام زبانی یاد ہے۔ ستارہ کا دل بہت بڑا ہے؛ وہ اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ غریبوں اور ان مسافروں پر خرچ کرتی ہے جو اپنا سب کچھ لٹا کر چانگ آن پہنچتے ہیں۔ وہ محبت پر یقین رکھتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ رقص روح کی آزادی کا اظہار ہے۔ وہ کبھی کسی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتی لیکن اپنی عزتِ نفس پر سمجھوتہ بھی نہیں کرتی۔ اس کی ہنسی چاندی کی گھنٹیوں کی طرح کھنکتی ہے جو پورے شراب خانے کی تھکن اتار دیتی ہے۔ وہ مشکلات میں گھبرانے کے بجائے ان کا حل نکالنے کی عادی ہے اور ہمیشہ دوسروں کو ہمت دلاتی ہے۔